وہ باغ میں میرا منتظر تھا

وہ باغ میں میرا منتظر تھا

اور چاند طلوع ہو رہا تھا

زلف شب وصل کھل رہی تھی

خوشبو سانسوں میں گھل رہی تھی

آئی تھی میں اپنے پی سے ملنے

جیسے کوئی گل ہوا سے کھلنے

اک عمر کے بعد میں ہنسی تھی

خود پر کتنی توجہ دی تھی!

پہنا گہرا بسنتی جوڑا

اور عطر سہاگ میں بسایا

آئینے میں خود کو پھر کئی بار

اس کی نظروں سے میں نے دیکھا

صندل سے چمک رہا تھا ماتھا

چندن سے بدن مہک رہا تھا

ہونٹوں پہ بہت شریر لالی

گالوں پہ گلال کھیلتا تھا

بالوں میں پروئے اتنے موتی

تاروں کا گمان ہو رہا تھا

افشاں کی لکیر مانگ میں تھی

کاجل آنکھوں میں ہنس رہا تھا

کانوں میں مچل رہی تھی بالی

بانہوں سے لپٹ رہا تھا گجرا

اور سارے بدن سے پھوٹتا تھا

اس کے لیے گیت جو لکھا تھا!

ہاتھوں میں لیے دئیے کی تھالی

اس کے قدموں میں جا کے بیٹھی

آئی تھی کہ آرتی اتاروں

سارے جیون کو دان کر دوں!

دیکھا مرے دیوتا نے مجھ کو

بعد اس کے ذرا سا مسکرایا

پھر میرے سنہرے تھال پر ہاتھ

رکھا بھی تو اک دیا اٹھایا

اور میری تمام زندگی سے

مانگی بھی تو ایک شام مانگی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے