وصل میں ہم نے جو گزاری ہے

وصل میں ہم نے جو گزاری ہے
وہ گھڑی آج ہم پہ بھاری ہے
اُس سے ملنے کا شوق ہے دل کو
جس کی آنکھوں کی ضرب کاری ہے
دل بھی وقفِ سراب ہے میرا
اور چہرے پہ یاس طاری ہے
موج میں یا عذاب میں گزرے
زندگی موت کی سواری ہے
مسئلوں نے جھکا دیے کاندھے
وقت کا بوجھ کتنا بھاری ہے
رہزنوں کو ہی رہنما جانا
یہ تماشا ازل سے جاری ہے
لوگ مردہ پرست ہوتے ہیں
جن کا لہجہ اَنا سے عاری ہے
الجھنیں عمر چاٹ جاتی ہیں
مفلسی ایک بے قراری ہے
دیکھ ناصر فضائے مقتل کا
پھر وہی رنگ کاروباری ہے
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے