وبا جان لیوا , ادا جان لیوا

وبا جان لیوا , ادا جان لیوا
ہیں دونوں ہی میرے خدا جان لیوا
مری وحشتوں کو ذرا چین آئے
مرے دوست قصہ سنا جان لیوا
ہتھیلی پہ رکھ کے میں جان آ گیا ہوں
فنا کی طلب ہے, بلا جان لیوا
کئ دن سے اٹکی ہوئی ہے لبوں پر
دلاسے کی صورت دعا جان لیوا
جدائی , اذیت, ستم , بے وفائی
ہے کچھ اور بھی کیا بتا جان لیوا
شجر اور چراغوں کو بھاتی نہیں ہے
زمانے کی بدلی ہوا جان لیوا
مری خامشی کو نگل جائے ارشاد
سماعت کا گریہ صدا جان لیوا
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے