اٹھ گئے بزم سے میخوار؟ نہیں کوئی نہیں

اٹھ گئے بزم سے میخوار؟ نہیں کوئی نہیں
ہیں کہیں صبح کے آثار؟ نہیں کوئی نہیں
ایک بیکس کے تقاضوں کی حقیقت ہی کیا
میں محبت کا طلبگار؟ نہیں کوئی نہیں
ظلم، ادبار، ہوس، وہم، عداوت، نفرت
ہیں کوئی جینے کے آثار؟ نہیں کوئی نہیں
فصل گل آئی کھنکنے لگے ساغر لیکن
میں تبسم کا سزاوار؟ نہیں کوئی نہیں
دب گئے ان کی نگاہوں کے اثر سے باقیؔ
کر لیا جرم کا اقرار؟ نہیں کوئی نہیں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے