استادنصرت فتح علی خان کے لیے

تمھیں جانے کی جلدی تھی
سو اب یوں ہے
کہ سرگم تیرے پیروں کے انگوٹھوں سے بندھی ہے
لَے، ترے دل کی شکستہ دھڑکنوں سے ٹوٹ کر
تابوت کے پہلو میں سرنیوڑھائے بیٹھی ہے
ہجومِ سوگواراں میں ہر اک کے سینۂ بے تاب سے
تیری مدھر آواز کی پرچھائیں لپٹی ہے
تری استھائیاں اور انترے،پلٹے
رموزِ عشق و مستی، تھاپ،تالی
ہر اک شے تیرے واپس لوٹ آنے کی
عبث خواہش کے ریشم میں الجھ کر رہ گئی ہے
زمانہ حیرتی ہے
ساری دنیا چپ ہے
سورج، چاند کالے پڑ گئے ہیں
اور درختوں کی ہری شاخوں میں زردی آ گئی ہے
پھول پتی پتی ہو کر فرشِ غم پر سینہ کوبی کر رہے ہیں
اور ہَوائیں سوزخوانی کر رہی ہیں اور خوشبو ننگے پاؤں تیرے سراورتال کی
ہم وارسطحوں پر ردائے ہجر اوڑھے،بین کرتی پھر رہی ہے
نصرتِ فن
اے شہنشاہِ غنا!
تجھ پر ابھی ساز و صدا کے کتنے موسم اور آنے تھے
ابھی تو تیری شاخِ عمر پر انچاس کلیاں ہی کھلی تھیں
اے شہہ نصرت
تمھیں جانے کی جلدی تھی
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے