اُسے اپنی نگاہوں میں بڑا رہنے دیا ہوتا

اُسے اپنی نگاہوں میں بڑا رہنے دیا ہوتا
وہ ضدی ہے اُسے ضد پر اَڑا رہنے دیا ہوتا

جو صدیوں سے مری تہذیب کی گویا علامت ہے
وہ گھر میں ایک مٹی کا گھڑا رہنے دیا ہوتا

جو تیرے ہاتھ کی انگلی میں زینت کا سبب ٹھہرا
نگینہ وہ انگھوٹھی میں جڑا رہنے دیا ہوتا

کسی مفلس کو دھکا مار کے چلنا نہیں اچھا
بھکاری تھا اُسے رہ میں کھڑا رہنے دیا ہوتا

جو مٹی سے جدا ہونے پہ راضی ہی نہیں یارو
وہ پتھر خاک کے اندر پڑا رہنے دیا ہوتا

کڑے وقتوں کے بارے میں کبھی جو سوچ آئی تھی
تو گھر میں کوئی سونے کا کڑا رہنے دیا ہوتا

مرے معصوم جذبوں کا بہایا خون ہو جس نے
وہ ناوک کیسے سینے میں گڑا رہنے دیا ہوتا

ابھی وہ بیج ہے صابرؔ اُسے کیونکر نکالا ہے
زمیں کی گود میں اُس کو پڑا رہنے دیا ہوتا

ایوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے