اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر

اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر
میں نے بھی یارو چھیڑ دی اک سرد جنگ پھر

لایا گیا ہوں پھر سے سرِ مقتلِ حیات
ہونے لگا بدن سے جدا انگ انگ پھر

ثابت ہوا کہ تو بھی نہیں مستقل علاج
لگنے لگا ہے روح کے ملبے کو زنگ پھر

یوں لامکاں تو اپنا ستارہ کبھی نہ تھا
یہ کیا ہوا کہ کٹ گئی اپنی پتنگ پھر

پیاسے لبوں کو یا تو سمندر نصیب کر
یا ہو عطا جزیرۂ پُر خشت و سنگ پھر

جب تو فرازِ شب سے پکارے گا ساری رات
میں بھی فصیلِ جاں سے اُتاروں گا زنگ پھر

اِس بار تو خدا کی قسم کچھ نہیں کہا
کیوں اڑ گیا جناب کے چہرے کا رنگ پھر

عزیز نبیل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے