اُس نے جب مُجھ سے بچھڑنے کا

اُس نے جب مُجھ سے بچھڑنے کا ارادہ کر لیا
ربط نہ رکھنے کا خود مَیں نے بھی وعدہ کر لیا

بھول کر ساری خطائیں اس حسیں جلاد کی
آزما کر ضبط کو دل بھی کشادہ کر لیا،

ساری تصویریں لگا دیں سارے فیشن بھی کیے
تجھ سے بچھڑ ے تو سنورنا بھی زیادہ کر لیا

چھوڑ کے ساری دوائیں ترک کر کے سب علاج
وِردِ اسمِ یار ہی سے استفادہ کر لیا

جو میری نفرت کا بھی حقدار بن سکتا نہ تھا
پیار ایسے شخص سے حد سے زیادہ کر لیا

تسلیم اکرام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے