اُس نے ہیں جاں سے مارنے والے کیے ہوئے

اُس نے ہیں جاں سے مارنے والے کیے ہوئے
گورے بدن پہ بال ہیں کالے کیے ہوئے

اُس کو اندھیری راہ بھی چلنا نہیں پڑی
میں نے ہیں زندگی میں اجالے کیے ہوئے

اچھے دنوں میں چومتے تھے میرے ہاتھ بھی
اب لوگ میری سمت ہیں بھالے کیے ہوئے

یہ بھی گلہ ہے اُس سے کہ اُس نے تمام لوگ
اپنی طرف ہیں چاہنے والے کیے ہوئے

شاید وہ کوئی بات سنے اس لحاظ سے
تحفہ اُسے ہیں کان کے بالے کیے ہوئے

کیسے کسی بھی غیر سے بانٹا ہے کوئی دکھ
اُس نے تو غم تھے میرے حوالے کئے ہوئے

ہم سے تو کوئی ہاتھ ملا کر بھی خوش نہیں
ہاتھوں میں محنتوں سے ہیں چھالے کیے ہوئے

مرنے سے میری آنکھ نے کھلنا ہے دفعتاً
دنیا ہے میرے سامنے جالے کیے ہوئے

اچھے عمل کی روشنی تھوڑی ہے میرے پاس
کاغذ ہیں اپنے ہاتھ سے کالے کیے ہوئے

ماؤں کو داد، مُلک کی خاطر لڑائی میں
آگے ہیں نعم و ناز کے پالے کیے ہوئے

ڈاکٹر فخر عباس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے