اس نے دریا کو بلایا جو اشارا کر کے

اس نے دریا کو بلایا جو اشارا کر کے
چل دئیے لوگ سمندر سے کنارا کرکے

رات بھر کالی ہواوں نے بہت بین کئے
بام پر جلتے چراغوں کا خسارا کر کے

ترے مرہم نے بھی زخموں کا مداوہ نہ کیا
درد کچھ اور بڑھا درد کا چارا کر کے

میں نے پھر پوچھ لیا اتنی پریشاں کیوں ہو
ہنس کے بولی کہ میاں عشق دوبارا کر کے

خاک کے ذروں کو اکسیر کیا ہے تو نے
اپنے قدموں کے تلے چاند ستارا کر کے

میں تری آنکھ، ترے ہاتھ کے صدقے جاوں
تو نے تصویر بنا دی ہے نظارہ کر کے

افتخار شاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے