اس کو جو کچھ بھی کہوں

اس کو جو کچھ بھی کہوں اچھا بٌرا کچھ نہ کرے
یار میرا ہے مگر کام مرا کچھ نہ کرے
کیسے ممکن ہے کہ دِل رنج پہ آمادہ ہو
اور بدلے میں اٌداسی کا خدا کچھ نہ کرے
دوسری بار بھی پڑ جاۓ اگر کچھ کرنا
آدمی پہلی محبت کے سِوا کچھ نہ کرے
کوئی حیرت، کوئی صورت نہیں درکار مجھے
آئینہ یا تِری باتیں کرے یا کچھ نہ کرے
اکتفا کر لیا بس دیکھتے رہنے پہ تجھے
ورنہ تٌو جس کا مقدر ہو وہ کیا کچھ نہ کرے
لوگ ایسے ہیں، کہ جو دِل سے تسلی بھی نہ دیں
وقت ایسا ہے، کہ جب کوئی دعا کچھ نہ کرے
چھوڑ کر سارے جہاں کو، تِرے پاس آیا ہوں
اور اگر تٌو بھی مِرے مسئلے کا کچھ نہ کرے
عابِد ملِک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے