سورہ الرحمٰن کی روشنی میں ایک ادنٰی کوشش

سورہ الرحمٰن کی روشنی میں ایک ادنٰی کوشش

فَبِاَیِّ آلٰاِ رَبِّکُمَا تُکَزِّبَان

اس کی ہے تخلیق ساری کائنات
اس نے ہی بخشا دو عالم کو ثبات

اس نے ہی پیدا کیا انسان کو
زندگی دی قطرہء بےجان کو

چاند سورج کا یہ متعین مدار
ہے خدائے کبریا کا شاہکار

کر کے بیجوں سے درختوں کا ظہور
ہم کو بخشے اس نے میوے اور کھجور

سیپیاں گوہر لئے آبِ رواں
آدمی پر کر دیا سب کچھ عیاں

پانیوں میں تیرنے والے جہاز
سب کے پیچھے ہے خدائے کارساز

آگ سے پیدا کیا جنات کو
کر دیا پھر دن پہ غالب رات کو

آدمی کی منفعت کے واسطے
چار سُو اس نے بنائے راستے

ابتدا سے انتہا تک جاؤ گے
اپنے ہر سو تم خدا کو پاؤ گے

اپنی ہستی پر اگر اِتراؤ گے
آخرت میں تم بہت پچھتاؤ گے

نعمتیں اس کی نہ تم گن پاؤ گے
کون سی نعمت کو تم جھٹلاؤ گے

منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے