Us Ki Hasrat Hai

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

ڈال کر خاک مرے خوں پہ قاتل نے کہا
کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ مٹا بھی نہ سکوں

ضبط کمبخت نے اور آکے گلا گھونٹا ہے
کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں

اس کے پہلو میں جو لے جا کے سلادوں دل کو
نیند ایسی اسے آئے کہ جگا بھی نہ سکوں

نقشِ پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے
سر مرا عرش نہیں ہے کہ جھکا بھی نہ سکوں

اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانوں پر
اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے