اُس کے جانے کا اِس دل کو ڈر سا تھا

اُس کے جانے کا اِس دل کو ڈر سا تھا
میرا دِل بھی گویا کچا گھر سا تھا
اُجڑی بستی کے پنچھی خوش حال ملے
جینا تو انسانوں میں دوبھر سا تھا
میں برسوں کی اُجرت سے محروم رہا
آنسو جو چھلکا تھا وہ گوہر سا تھا
خونیں آنکھوں میں ہمدردی کے پَرتو
مقتل میں ہر چہرہ چارہ گر سا تھا
صحرا میں سب دیکھ رہے تھے حسرت سے
اُس بادل کو جو دریا پر برسا تھا
نفرت میں بھی چاہت جیسی گرمی تھی
اُس کا تو ہر جذبہ مال و زَر سا تھا
مانگ رہی تھیں آنکھیں مجھ سے ماہِ نو
ایسا ، جس کا لہجہ بھی دل بَر سا تھا
ہر دروازے پر دستک تھی مدّھم سی
آدھی رات کو ناصر دل میں ڈر سا تھا
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے