اردو شاعری کا مردِ قلندر، خواجہ حیدرعلی آتش

اردو شاعری کا مردِ قلندر، خواجہ حیدرعلی آتش
معاشرے کی زوال پذیری کا عکس ادب میں نظر آنا فطری ہے اور دبستان لکھنئو کے شعرا کے یہاں خارجی مضامین کی فراوانی اسی بات پر دال ہے۔ لیکن اس زمانے میں بھی خواجہ حیدر علی آتش دبستان لکھنئو کے دوسرے شعرا سے مختلف نظر آتے ہیں ان کا انداز بھی الگ ہے۔ اس لیے کلام میں بھی انفرادیت ہے۔ان کا کلام ایسا منجھا ہواہے کہ ان کے کتنے ہی مصرعے اور اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ جتنے اشعار آتش کے ضرب المثل ہیں اتنے کسی بھی دوسرے شاعر کے نہیں۔ مثلاً:
میں جا ہی ڈھونڈھتا تری محفل میں رہ گیا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
ہمارے بھی ہیں مہماں کیسے کیسے
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے
آتش کو دبستان لکھنئو کا نمائندہ شاعر نہیں کہا جا تا کیوں کہ اس دور میں تو ناسخ ہی اپنی شعری خصوصیات کے لحاظ سے لکھنئو کی نیابت کر رہے تھے اور ان کی شاعری کا ڈنکا دور دور تک بج رہا تھا، لیکن دہلی اور لکھنئو کے اتصال سے آتش نے نیا رنگ و آہنگ پید اکیا اور یہی ان کی شناخت بھی ہے جہاں ان کے یہاں داخلیت ہے وہیں لکھنئو کی خارجیت بھی موجود ہے۔اسی لیے آتش کے اشعار جہاں ذہن پر دستک دیتے ہیں وہیں دل کے تاروں کو بھی چھیڑتے ہیں۔
کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کا
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا
آتش نے جا بجا اپنے کلام میں بندش کی صفائی معنی کی خوبصورتی فکر کی جولانی‘ زبان کی روانی کا ذکر کیا ہے اور اس میں کوئی کلام بھی نہیں ہے وہ خود ہی کہتے ہیں:
کھینچ دیتا ہے شبیہِ شعر کا خاکہ خیال
فکرِ رنگیں کام اس پر کرتی ہے پرواز کا
بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
لیکن آتش کی شاعری کا صرف یہ کمال نہیں ہے کہ وہ مرصع سازی کی نمائش کرتی ہے مرصع سازی سے تو زیور کا حسن چمک جاتا ہے لیکن مرصع سازی شعریت کی بدل نہیں ہو سکتی۔ آتش کی مرصع سازی کے پیچھے احساس کی ایک دنیا آباد ہے اوران کے اشعار میں یہ دنیا صاف نظر آتی ہے:
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو برو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
بہارِ گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے
پیام بر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا سر آرزو کرتے
مری نماز جنازہ پڑھائی غیروں نے
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے
یہ شاعر ہیں الہٰی یا مصور پیشہ ہیں کوئی
نئے نقشے نرالی صورتیں ایجاد کرتے ہیں
خواجہ حیدر علی آتش کی پیدائش سنہ 1768ءکو فیض آباد میں ہوئی تھی۔ انہوں نے تعلیم وہیں کے مدرسے سے حاصل کی تھی مگر حالات کے جبر کے سبب وہ فیض آباد چھوڑ کر لکھنئو چلے آئے تھے۔ وہاں اس وقت شعرا کی کہکشاں موجود تھی اور ان شعرا کا تعلق دربار سے تھا۔لیکن آتش اپنے فقیرانہ مزاج کے سبب سرکار دربار سے وابستہ نہیں ہو سکے۔ بلکہ انہیں دربار میں بلایا بھی گیا تو نہیں گئے۔ اس کی بجائے انہوں نے درویشی اختیار کی اور اس درویشی کے سبب انہیں بے حد تکلیفوں کاسامنا کرنا پڑا۔فکری طور پر وہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئے اور ٹوٹنے کی یہ کیفیت ان کی شاعری میں بدرجہٴ اتم موجود ہے، جس کی باز گشت ہر جگہ سنائی دیتی ہے۔
ان کا پیدائشی نام حیدر علی تھا اور ان کے والدکا نام علی بخش تھا۔ سلسلہ نسب خواجہ عبداللہ احرار تک پہنچتا ہے۔ بزرگوں کا وطن بغداد تھا جو تلاش معاش میں دہلی آئے اور وہیں پرانے قلعے میں بس گئے۔ خواجہ علی بخش شجاع الدولہ بہادر کے عہد میں دہلی سے فیض آباد آئے اورمحلہ مغل پورہ میں قیام کیا۔ یہیں حیدر علی کی پیدائش ہوئی تھی جو بعد میں آتش کے نام سے معروف ہوئے۔ آتش نے مصحفی کی شاگردی اختیار کی تھی جن کالکھنئو اوردہلی دونوں دبستانوں سے تعلق تھا۔ لیکن لکھنئو کے شعرا کی گروہ بندیوں کے سبب مصحفی وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو انہیں ملنا چاہئیے تھااور اس کی تپش ان کے دل میں تھی۔ یہی چنگاری انہوں نے اپنے شاگرد آتش کے دل میں منتقل کر دی۔
لیکن آتش بھی خود کودرباری نہ بنا سکے، اسی لیے وہ تصوف کی جانب راغب ہوگئے، قلندری اختیار کر لی اور مخصوص لباس پہن کر لکھنئو کے بانکے بن گئے۔ اگرچہ آتش کی زندگی بہت ہی کلفتوں میں گزری لیکن خود پسندی اور انانیت کے سبب انہوں نے کہیں دستِ طمع دراز نہیں کیا۔ شاید آتش کے اشعار میں اسی لیے وہ خوبی پیدا ہوئی جو لکھنئو کے کسی شاعر کے یہاں نظر نہیں آتی:
مگر اس کو فریبِ نرگسِ مستانہ آتاہے
الٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
تصور سے کسی کے کی ہے میں نے گفتگو برسوں
رہی ہے ایک تصویرِخیالی رو برو برسوں
حسرتِ جلوہٴ دیدار لیے پھرتی ہے
پیشِ روزن پسِ دیوار لیے پھرتی ہے
موت مانگوں تو رہے آرزؤئے خواب مجھے
ڈوبنے جاؤں تو دریا ملے پایاب مجھے
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو برو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
پیام بر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
مری طرف سے صبا کہیو میرے یوسف کو
نکل چلی ہے بہت پیرہن سے بو تیری
چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا
آتش کے شاگردوں کی تعداد سو سے بھی زائد تھی اور ان کے انداز سے یاس یگانہ چنگیزی اور فراق گورکھ پوری تک متاثر نظر آتے ہیں۔ آتش کے انتقال کے سلسلہ میں بھی اختلاف ہے لیکن کافی تلاش جستجو کے بعد مالک رام نے ’تذکرہٴ ماہ و سال‘ میں ان کی تاریخ وفات 13جون 1847ءلکھی ہے اور اسے ہی درست تسلیم کیا گیا ہے۔


June 15, 2009

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے