Urdu Main Adabi Tareeh Ki Kami

اردو میں ادبی تاریخ کی روایت کی کمی ہے: شمس الرحمٰن فاروقی
رضوان احمد
پٹنہ
February 21, 2009

اردو کے نام ور نقاد اور دانش ور شمس الرحمن فاروقی

معروف نقاد اور محقق شمس الرحمن فاروقی نے بیس فروری کو تاریخی خدا بخش لائبریری میں ”اردو ادب کی نئی تاریخ کی ضرورت“ کے موضوع پر اپنا عالمانہ خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اردو میں ادبی تاریخ کی ترتیب کی کوئی اعلیٰ اور صالح روایت موجود نہیں رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوشخص ڈیڑھ سو برس کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو، وہی اردو ادب کی غیر جانب درانہ تاریخ لکھ سکتا ہے -انہوں نے اپنے لکچر کے آغاز میں کہا کہ پروفیسر رالف رسل نے ادب کی تاریخ لکھنے کے لیے تین نکات کی ضرورت بتائی ہے۔ پہلا انتخاب دوسرا اختصار اور تیسرا تاریخی اور سماجی پس منظر۔ لیکن وہ ان تینوں نکات کو رد کرتے ہیں کیوں کہ یہ کسی طرح بھی ادبی تاریخ لکھنے میں معاون نہیں ہو سکتے۔ اس لحاظ سے رسل صاحب نے جو قاعدے کلیے وضح کیے ہیں ان کا اردو ادب کی تاریخ تحریر کرنے پر اطلاق نہیں ہو تا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ہم فورٹ و لیم کی کتابوں کو فخر سے سر پر اٹھائے پھرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتابیں انگریز افسروں کو اردو سکھانے کے لیے لکھوائی گئی تھیں۔ میر امن کی باغ و بہار کا ناقدین بار بار ذکر کرتے ہیں لیکن اس کی ادبی حیثیت مشکو ک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ رفیع الدین نے سنہ 1800ءمیں اردو میں قرآن کا ترجمہ کیا تھا اور اس میں لکھا تھا کہ میں قرآن کا ہندی میں ترجمہ کر رہا ہوں تو در اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ اردو کا اولین نام ہندی، ہندوی یا ریختہ تھا۔ ہندی زبان کا اس وقت تک کوئی وجود ہی نہیں تھا اور اردو کی بہت ہی پختہ ادبی روایات قائم ہو چکی تھیں جسے ہندی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم لوگوں نے اس نام کو ترک کر دیا اس کے ساتھ ساتھ اس ورثے کو بھی چھوڑ دیاگیا۔ اس زمانے میں بنارس سے لے کر مرشد آباد تک ہندی یا ہندوی میں لکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ سورت میں تو چودھویں صدی میں اسی زبان یعنی ہندی، ہندوی یا اردو کا بول بالا تھا۔

شمس الرحمن فاروقی نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ اردو کبھی بھی سرکاری زبان رہی ہے یا سرکار دربار سے اس کی سرپرستی ہو تی رہی ہے کیوں کہ اس زمانے کے جتنے بھی دربار تھے سب کی زبان فارسی تھی۔ صرف ٹیپو سلطان نے اردو کو سرکاری زبان بنایا تھا لیکن اس کا عرصہ 8-9سال سے زیادہ نہیں رہا۔

جناب فاروقی نے کہا کہ سب سے بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اردو میں ادبی تاریخ لکھنے کی روایت کی جو بنیاد رکھی گئی وہی کج تھی۔ اس سلسلہ کی پہلی کتاب محمد حسین آزاد کی ”آب حیات“ ہے لیکن ان کے ذہن میں یہ واضح ہی نہیں تھا کہ و ہ تذکرہ لکھ رہے ہیں یا تاریخ۔جب انہوں نے خود ہی لکھ دیا کہ وہ نام ور شعرا کے حالات لکھ رہے ہیں توا س سے ان کے ذہنی تعصبات صاف ظاہر ہو رہے ہیں کہ وہ جنہیں نام ور مان رہے ہیں وہی بڑے شاعر ہیں، باقی شعرا کسی شمار قطار میں نہیں ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا بھی ہے۔ قائم چاند پوری جیسے باکمال شاعر کا ذکر ایک سطر میں حاشیہ میں کیا گیا ہے۔

” آب حیات “ کی اس خامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ محمد حسین آزاد کے سامنے ایک ایجنڈا تھا اور انہوں نے اسی ایجنڈے کے تحت وہ کتاب لکھی، اس طرح سے غلط روایت کی بنیاد پڑ گئی۔ آب حیات کی اس خامی نے اردو ادب کی تاریخ کو مسخ کر دیا۔ آزاد کے ذہن میں تعصبات بہت ہیں، انہوں نے اردو کے ہندو شعرا کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ شاعرات کی بھی اردو میں بڑی مضبوط بنیاد تھی، مگر آزاد نے کسی شاعرہ کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

فاروقی نے پروفیسر شارب ردولوی کی ادبی تاریخ کے اصول و نظریات کا بھی ذکر کیا۔ لیکن اس کے بارے میں بھی انہوں نے بتایا کہ ایک طرح کی تدریسی کتاب ہے اور اس میں ادب کی تاریخ لکھنے کے اصول واضح نہیں کیے گئے ہیں اور یہ اس کتاب کی بڑی خامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کی کتاب بھی صرف تدریسی کتاب ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ التبہ انہوں نے ڈاکٹر گیان چندر جین کی کتاب اردو کی ادبی تاریخیں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر جین نے اردو کی ادبی تاریخوں کا تفصیل سے جائزہ تو لیا ہے اور ان کی خامیاں بھی بیان کی ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا ہے کہ ادبی تاریخ لکھنے کا فلسفہ کیا ہے۔ اس کے واضح نکات کیا ہیں اور اس کی سائنسی تشکیل کس طرح سے کی جانی چاہیئے۔

شمس الرحمٰن فاروقی نے ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تاریخی حوالے اور اصل مواد بھی پیش کیا گیا ہے، اس لیے اس کی ادبی اور تاریخی حیثیت ہے لیکن جمیل جالبی بھی اپنے ذہنی تحفظات کو بالائے طاق نہیں رکھ سکے ہیں۔ ہمارے ادبا اور ناقدین کی سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ وہ ذہن میں یہ مفروضہ رکھ کر چلتے ہیں کہ اردو میں بس دو ہی دبستان تھے، ایک لکھنئو اور دوسرا دہلی۔ حالانکہ جس زمانے کے ان دو دبستانوں کا ذکر کیا جاتا ہے اس وقت دکن میں ادب کی تخلیق ہو رہی تھی، بنگال کے مرشدآباد میں بھی اردو لکھنے پڑھنے والے تھے، عظیم آباد میں بھی اور گجرات کے سورت میں بھی اور ان سب کا کتابوں میں تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ اس کے باوجود صرف دبستان دہلی اور دبستان لکھنو کا ذکر کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔

بد قسمتی سے ادبی تاریخیں لکھنے والوں کے ذہن پر آج بھی لکھنویت یا دہلویت سوار ہے، اسی لیے وہ منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تاریخ نہیں لکھ پاتے۔ اس کے لیے انہوں نے جامعات کے اردو اساتذہ کو ذمہ دار قرار دیا جو درسیات کی کتابوں تک محدود رہتے ہیں اور یہ درسی کتابیں اردو ادب کی تاریخ کو مسخ کر تی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اب تک ہمارے یہاں ادبی تاریخ لکھنے کی صالح روایت نہیں بن سکی ہے، جو ایک بڑا المیہ ہے۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے