عقد نامے

عقد نامے

آج انہوں نے اعلان کر ہی دیا

دیکھو!

ہم نے تمہاری سب کی سب قوتوں کا فیصلہ کیا تھا

قیل و قال کی گنجائش باقی نہیں ہے

تمہارے اقرار نامے ہمارے پاس محفوظ ہیں

تم سے پہلے والوں کی خطا یہی تھی

کہ انہیں،

اپنی ناف کے نیچے سرسراہٹ کا احساس

کچھ زیادہ ہی ہو چلا تھا

انہیں شہر بدر کر دیا گیا

ان کے پچھتاوے اور گڑگڑاہٹیں

آج بھی ہمارے کانوں میں محفوظ ہیں

تمہیں اتنی چھوٹ دی ہی کیوں جائے

کہ تم

کل ہمارے مقابلے پر اتر آؤ

ہم تمہیں ہوشیار کیے دیتے ہیں

دیواریں پھلانگنے والے

عتاب سے بچ نہیں سکتے

عقد ناموں پر تمہارے دستخط

تمہاری نا مرادی کا کھلا اعتراف ہیں

اس کے بغیر

ہماری حرم سرا میں

داخل ہونے کے اجازت نامے

تمہیں مل بھی کیسے سکتے تھے

اس سے پہلے کہ ہمارے نجیب الطرفین شجرے مشکوک ہو جائیں

اور ہمارے حسب نسب پر آنچ آ جائے

ہم

تم سے پہلے گلو خلاصی کا راستہ ڈھونڈ نکالیں گے

آشفتہ چنگیزی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے