یونیورسٹی ڈیپوٹیشن

یونیورسٹی ڈیپوٹیشن
تھی سفارت کی جو تجویز بظاہر موزوں
اہل مجلس بھی بظاہر نظر آتے تھے خموش
دفعتہً دائرہ صدر سے اٹھا اک شخص
جس کی آزادی تقریر تھی غارتگر ہوش
اس نے اس زور سے تجویز پہ کی رد و قد
چونک اٹھے وہ بھی جو بیٹھے ہوئے تھے پنبہ بگوش
اہل مجلس نے جو بدلا ہوا دیکھا انداز
ڈر ہوا یہ کہ کہیں اور نہ بڑھ جائے خروش
صدر محفل نے بُلا کر اُسے آہستہ کہا
کہ تو ہم شامل وفد سستی و ایں مایہ مجوش
بادہ جام سفارت مے مرد افگن تھا
ایک ہی جرعہ میں شیر جری تھا خاموش
اب نہ وہ طرز سخن تھا نہ وہ آزادی رائے
نہ وہ ہنگامہ طرازی تھی نہ وہ جوش و خروش
جس کی تقریر سے گونج اٹھتا تھا اجلاس کا ہال
اب وہ اک پیکر تصویر تھا بالکل خاموش
سخت حیرت تھی کہ اِک ذرہ خاکستر تھا
وہ شرارہ جو ابھی برق سے تھا دوش بدوش
دیکھتے ہیں تو حرارت کا کہیں نام نہیں
ہو گیا شعلہ سو زندہ بھڑک کر خس پوش
اہل ثروت سے یہ کہہ دو کہ مبارک ہو تمہیں
للہ الحمد ابھی ملک میں ہیں رائے فروش
شبلی نعمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے