انگلیاں کٹ گئیں اور بل نہیں کھلنے والا

انگلیاں کٹ گئیں اور بل نہیں کھلنے والا
مجھ سے اس عقدے کا جنگل نہیں کھلنے والا

شہر تو دور تلک بند پڑا ہے صاحب
گاڑی کیجے کہ یہ پیدل نہیں کھلنے والا

اس نے سب تالوں کی اک چابی بنا رکھی ہے
پھر بھی وہ شخص مکمل نہیں کھلنے والا

میرا سر آپ کی شفقت سے رہے گا محروم
مجھ پہ یہ دست – مقفل نہیں کھلنے والا

رسیاں باندھ کے رکھا ہے دوانے پن کو
بند کمرے سے یہ پاگل ،،، نہیں کھلنے والا

اک ملاقات ابھی چھت پہ بھی جا کر ہوگی
اونچی دیوار سے پیپل نہیں کھلنے والا

چند لمحوں کی بسنت آئی ہے مجھ پر اے دوست
یعنی تا دیر یہ آنچل نہیں کھلنے والا

عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے