انگلیوں سے لپٹ نہیں پاتی

انگلیوں سے لپٹ نہیں پاتی
بان کی طرح بٹ نہیں پاتی
زندگی خواہشوں کی مایا ہے
جو کسی طور گھٹ نہیں پاتی
سچ تو یہ ہے کہ میری چشم طلب
ترے چہرے سے ہٹ نہیں پاتی
چاند ہو، تُو نہ ہو تو جانِ جہاں
چاندنی بھی تو چھٹ نہیں پاتی
لاکھ دامن سمیٹ کر رکھیے
پر جوانی سمٹ نہیں پاتی
یہ محبت عجب مصیبت ہے
کچھ بھی کیجے نمٹ نہیں پاتی
تجھ طرف جائے جو نظر اِک بار
وہ نظر پھر پلٹ نہیں پاتی
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے