ان پرندوں کے گھر نہیں رہتے

ان پرندوں کے گھر نہیں رہتے
جو کسی شاخ پر نہیں رہتے

یہ جو ڈر ہیں یہ بولنے تک ہیں
بول اُٹھیں تو ڈر نہیں رہتے

بات یہ ہے کہ بات والوں کی
"بات رہتی ہے سر نہیں رہتے”

ایک کھونٹی پہ عمر بھر لٹکے
ہم سے دریوزہ گر نہیں رہتے

اپنے مالک سے ڈرنے والوں میں
ایسے ویسوں کے ڈر نہیں رہتے

زندگی کے حریص پنجرے میں
رہتے ہیں، خوش مگر، نہیں ریتے

بات کا مان توڑنے والے
پھر کبھی معتبر نہیں رہتے

دیکھ ناقدریء زمانہ دیکھ
اس میں دستِ ہنر نہیں رہتے

یہ تو طے ہے، کہ پھر کہیں کے بھی
تیرے خانہ بدر نہیں رہتے

بات میں سچ سبھاؤ ہو تو پھر
الٹے سیدھے بھنور نہیں رہتے

دلشاد احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے