اُلجھنوں میں پڑا نہیں تھا مَیں

اُلجھنوں میں پڑا نہیں تھا مَیں
اُس سے جب تک لڑا نہیں تھا مَیں
خود بخود گر گئے سبھی ورنہ
اس نگر میں بڑا نہیں تھا مَیں
اُس کو پانے کی ضد بھی تھی میری
اور ضد پر اَڑا نہیں تھا مَیں
پوچھ لیتا وہ حالِ دل میرا
بے سبب تو کھڑا نہیں تھا مَیں
پانیوں کا مزاج بدلا تھا
ورنہ کچا گھڑا نہیں تھا مَیں
اُس خزاں کو بھی معتبر جانا
جس خزاں میں جھڑا نہیں تھا مَیں
بٹ گئے لوگ جا بجا لیکن
ان دھڑوں میں دھڑا نہیں تھا مَیں
دل کو خدشہ نہ تھا کوئی ناصر
جب کہیں بھی جڑا نہیں تھا مَیں
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے