اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
ہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا
جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینا
یہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا
بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
اندھیری کاسنی راتیں یہیں سے ہو کے گزریں گی
جلا رکھنا کوئی داغ جگر آساں نہیں ہوتا
کسی درد آشنا لمحے کے نقش پا سجا لینا
اکیلے گھر کو کہنا اپنا گھر آساں نہیں ہوتا
جو ٹپکے کاسۂ دل میں تو عالم ہی بدل جائے
وہ اک آنسو مگر اے چشم تر آساں نہیں ہوتا
گماں تو کیا یقیں بھی وسوسوں کی زد میں ہوتا ہے
سمجھنا سنگ در کو سنگ در آساں نہیں ہوتا
نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے
اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا
ادا جعفری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے