ادھیڑ کر خامشی کی الجھن

ادھیڑ کر خامشی کی الجھن, گھٹن اتارو ,صدا کے دن ہیں
شجر کا گریہ سنو پرندو نہ چہچہاؤ , ہوا کے دن ہیں

عجیب سے فاصلے کئ دن سے زندگی کو جلا رہے ہیں
کوئی کسی سے نہیں ہے ملتا سبھی ہیں لرزاں,وبا کے دن ہیں

اِدھر اُدھر کی تمام باتیں کوئی دلاسا نہ دے سکیں گی
گنہگارو پڑھو درود و سلام ان پر , دعا کے دن ہیں

طویل سانسیں بھی مختصر ہو رہی ہیں توبہ کا در کھلا ہے
رکوع سجدہ قیام لازم کرو کہ خوفِ خدا کے دن ہیں

ندامتیں, اشکبار آنکھیں, لرزتے لب, کپکپاتا لہجہ
اٹھے ہوئے ہاتھ آسماں کی طرف کہیں , التجا کے دن ہیں

دکھایا دل اور ستم جو ڈھایا کسی پہ اس کی معافی مانگو
جفا لبادہ اتار پھینکو نہ ظلم ڈھاؤ وفا کے دن ہیں

غبارِ صحرا نے میرے سینے کو سرخ ارشاد کر دیا ہے
لہو میں نوحے رواں دواں ہیں یقین مانو عزا کے دن ہیں

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے