اڑے تھے ذرے مگر آسمان تک نہ گئے

اڑے تھے ذرے مگر آسمان تک نہ گئے
مرے مبالغے بھی ان کی شان تک نہ گئے
سوائے نعتِ شہِ دوسرا زمانے سے
کسی کے شعر بھی اگلے جہان تک نہ گئے
خوشا ! وہ گرد جو نعلین پا کو چھوتی تھی
خوشا ! وہ سنگ جہاں سے نشان تک نہ گئے
وہاں وہاں بھی غلامان مصطفےٰ پہنچے
اڑان والوں کے جس جا گمان تک نہ گئے
کھلیں گے راز کہاں ان پہ لامکاں والے
مکاں سے ہو کے جو مالک مکان تک نہ گئے
ابھی تو کھل نہ سکی ان کی شانِ بشریت
ابھی تو وہم و گماں دو کمان تک نہ گئے
یہ کیسے لوگ ہیں زہریلی کھمبیوں جیسے
زمیں میں گل گئے پر سائبان تک نہ گئے
غلام رہنا پڑے گا انھیں زمانوں کا
حضورِ شاہ جو پہلی اذان تک نہ گئے
صابر رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے