اداسیاں

اداسیاں

کتنے دنوں سے یاس کا ساون دل دھرتی پر بر س رہا ہے
کتنے دنوں سے من کا آنگن آس کی دھوپ کو ترس رہا ہے
کتنے دنوں سے ہم دونوں نے دل کی بات چھپائی ہے
کتنے دنوں سے ہم دونوں نے خوشبو نہیں لگائی ہے
کتنے دنوں سے ہم دونوں کے جذبے گونگے بیٹھے ہیں
کتنے دنوں سے ہم بھی چپ کے خیمے تان کے لیٹے ہیں
کتنے دنوں سے اپنے گھر میں بوجھل دھیمی موسیقی ہے
کتنے دنوں سے جیسے ہر شے بے رونق ہے ، پھیکی ہے
کتنے دنوں سے دل پر اپنے قُفل لگائے بیٹھے ہیں
اِک دوجے سے اپنے اپنے راز چھپائے بیٹھے ہیں

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے