اداسی

اداسی

گرد جمی ہے آئینے پر
میز پہ رکھی ڈائری چپ ہے
سوکھ چکی ہے قلم سیاہی
اور کتابیں بھی گم سم ہیں
شکن شکن ہے بستر سارا
گجرے کب کے ٹوٹ چکے ہیں
جیسے اس کمرے کے سارے
ارماں تجھ بن روٹھ چکے ہیں

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے