اداس روح رہی خاک دان کے اندر

اداس روح رہی خاک دان کے اندر
مکین قید ہو جیسے مکان کے اندر

ابد کی راہ میں حائل ہے یہ جہان ِ فنا
بھٹک رہا ہوں ابھی اس جہان کے اندر

لگی ہے عمر مجھے یہ اُڑان بھرنے میں
فلک پہ پہنچا ہوں میں جس اُڑان کے اندر

کلام و نطق پہ ششدر تھے سب فصیح و بلیغ
عجیب سحر تھا اس کی زبان کے اندر
اں چاہے اتارے مجھ کو
چھوڑ جائے کسی تنکے کے سہارے مجھ کو

منتظر میں تو ہوں خورشید کا اے ظلمت ِ شب
کس لیے کرتا ہے مہتاب اشارے مجھ کو

میں کہ گرداب میں غرقاب ہوا جاتا ہے
پھر اٹھا لائی ہے اک لہر کنارے مجھ کو

میری چاہت پہ ہوس کا جو گماں ہےاس کو
آزمائش سے کسی روز گزارے مجھ کو

میری منزل تری سوچوں سے بہت آگے ہے
راہ دکھلائیں گے کیا ترے ستارےمجھ کو

جانبِ قریہ ء معلوم سفر ہے میرا
کوئی بستی نہ کوئی دشت پکارے مجھ کو

پھر سرابوں پہ سمندر کا گماں ہے صائب
پھر ستاتے ہیں یہ فطرت کے نظارے مجھ کو

صدیق صائب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے