Two Qat'aat Of Jaun Elia

ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار

پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم

کرکے اک دوسرے سے عہد وفا

آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم

۔۔۔۔۔۔۔

یہ تیرے خط تیری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال

متاع جاں ہیں ترے قول و قسم کی طرح

گزشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا

کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

(جون ایلیا)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے