ٹونٹی ٹونٹی(٢٠٢٠)

ٹونٹی ٹونٹی(٢٠٢٠)
(سال کی آخری نظم)

گزرے برس کے سارے لمحے
جن کو میں نے قید کیا تھا
فون کو اپنی آنکھیں دےکر
رنگ بھرے وہ سارے لمحے
صبحیں ، شامیں اور دوپہریں
جذبوں کے دریا کی لہریں
اک ڈیٹا کیبل کے سہارے
فون سے اپنے رخصت کرکے
کمپیوٹر کے شِکم میں ڈالیں
کٹ (cut) اور پیسٹ (paste) کے ست حرفی منتر نے گویا
اک لمحے کے کچھ حصے میں
قبر بنا کر اس میں بھر دیں
اور میں نے کتبے پر جا کر
صرف لکھا ہے ٹونٹی ٹونٹی(٢٠٢٠)
۔
شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے