Tuwaf Karta Hoa

طواف کرتا ہوا ، اِستلام کرتا ہوا

میں شہرِ وجد میں ہُوں صبح و شام کرتا ہوا

کوئی تو ہے جو مجھے کھینچ کھینچ لاتا ہے

ضرورتوں کا مری انتظام کرتا ہوا

کھڑ ا ہوں اپنے ہی سائے کی جانماز پہ میں

نمازِ شکر میں دل کو امام کرتا ہوا

ترے حضور مجھے لے کے آن پہنچا ہے

یہ سجدہ مجھ میں مسلسل قیام کرتا ہوا

نکل پڑ ا ہوں کسی عشق کے تعاقب میں

ہر ایک یاد کو خود پر حرام کرتا ہوا

فغاں ! کہ مجھ میں جو اک خواہشوں کا لشکر ہے

گزر رہا ہے مرا قتلِ عام کرتا ہوا

سمو رہا ہوں نظر میں مقامِ ابراہیمؑ

میں دل میں ایک تمنائے خام کرتا ہوا

میں کاش سنگ ہی ہوتا کہ زندہ رہ جاتا

نقوشِ پائے پیمبرؑ دوام کرتا ہوا

دُعا کو ہاتھ اُٹھائے جو میں نے مردہ پر

ٹھہر گیا کوئی مجھ میں خرام کرتا ہوا

حرم میں اُڑ تی ابابیل کی طرح ہوں سعودؔ

سکوتِ نیم شبی سے کلام کرتا ہوا

سعود عثمانی

٭٭٭

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے