تمہاری آنکھیں حیا کا نظام، ویسے بھی

تمہاری آنکھیں حیا کا نظام، ویسے بھی
سخن شناس نظر کو سلام ویسے بھی
یہی نہیں کہ تیرے اختیار میں ہے دل
میں کر رہا ہوں ترا احترام ویسے بھی
میں اتنی بار ملا اس کو یاد ہوگیا ہوں
وہ بھول جاتا ہے لوگوں کے نام ویسے بھی
مدینہ اصل وطن ہے نجف میں رہتے ہو
میں ایسے بھی ہوں تمہارا غلام ویسے بھی
تو اہلیت نہیں رکھتا تو کوئی بات نہیں
چلا ہوا ہے بہت سوں کا کام ویسے بھی
یہ ساری دنیا تمہاری ہنسی کی قیمت ہے؟
خرید لوں گا مناسب ہیں دام ویسے بھی
دانش نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے