تمہارے حسن سے تعبیر کرنا چاہتے تھے

تمہارے حسن سے تعبیر کرنا چاہتے تھے
ہم اپنے خواب کو تصویر کرنا چاہتے تھے

اٹھائے پِھرتے تھے اِک عکس اپنی آنکھ میں ہم
اور آئینے سے بغل گیر کرنا چاہتے تھے

ملا تھا وار کا موقع تو بارہا لیکن
ہم اپنی ڈھال کو شمشیر کرنا چاہتے تھے

غُبار بیٹھا جو پیش ِ نظر تو ہم پہ کھلا
ہوا تھی ہم جسے زنجیر کرنا چاہتے تھے

گِھرے ہوئی تھے ہم عُجلت پسند لوگوں میں
اور اپنے کام میں تاخیر کرنا چاہتے تھے

بُجھا رہا تھا میں جلتے ہوئے چراغوں کو
یہ میرے زخم کی تشہیر کرنا چاہتے تھے

اڑان بھرتے ہوئے منہ کے بل گرے ضیغم
محل ہواؤں پہ تعمیر کرنا چاہتے تھے

سعد ضؔیغم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے