تمہارے ہونٹوں سے جس کا گلا نکلتا ہے

تمہارے ہونٹوں سے جس کا گلا نکلتا ہے
وہ دن ہمارے لیے بھی برا نکلتا ہے
کبھی بتا نہیں پائے تمہارے اشک ہمیں
ہمارے پاس محبت کا کیا نکلتا ہے
سکوں کے واسطے کرتا ہے دل پسند جسے
وہ درد رات کا جاگا ہوا نکلتا ہے
میں چاہتا ہوں کریں شاعری نئے لڑکے
نئے ہوں لب تو سخن بھی نیا نکلتا ہے
یہ وصف صرف ترے نقش۔پا سے ہے منسوب
اگر کرید کے دیکھیں دیا نکلتا ہے
جہان۔خواب میں برسوں کی بھاگ دوڑ کے بعد
بھٹک کے آدمی مٹی میں جا نکلتا ہے
ہمارے شہر میں اس کا کوئی مقام نہیں
جو زندگی سے زیادہ بڑا نکلتا ہے
کہیں وجود نہیں کائنات میں اس کا
ہماری جیب سے جس کا پتہ نکلتا ہے
یہ پیڑ اس لیے ہم سے گریز کرتے ہیں
ہمارا زخم زیادہ ہرا نکلتا ہے
محیط ہوتی ہیں اس کی شبیں مہینوں پر
وہ دن جو دن میں کئی مرتبہ نکلتا ہے
کبیر اور بڑھے گا ہماری عمر کے ساتھ
بدن کے قرب سے جو فاصلہ نکلتا ہے
کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے