تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا

تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا

میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا

جنہوں نے مل کے مرے ہاتھ کاٹ ڈالے ہیں
انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا

اس ایک بات میں کتنی بڑی اذیت تھی
جب اس نے اتنا کہا: سوچ کر بتاؤں گا

اسی سبب سے میں لوگوں سے اب نہیں ملتا
صغیر اس نے کہا تھا گلے لگاؤں گا

صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

  • ڈاکٹر صغیر احمد صغیر

    بہت شکریہ جناب. ادب کی ترویج و ترقی پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں.

    جواب دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے