تم سے ملنا دوبارہ ہوگا نہیں

تم سے ملنا دوبارہ ہوگا نہیں
سوچتی ہوں میں، ایسا ہوگا نہیں
ہر قدم دیکھ کر رکھوں گی میں
ذندگی پر بھروسہ ہوگا نہیں
ہر کوئی دل نہیں رکھے گا مرا
ہر کوئی آپ جیسا ہوگا نہیں
گھر کی سب گھڑیاں توڑ دوں گی میں
گر وہ جلدی روانہ ہوگا نہیں
خوش رہے گا کوئی جہاں بھی رہے
کیا ہوا گر وہ میرا ہوگا نہیں
ہاتھ جل جائیں گے تمہارے بھی
دل کا چولہا بھی ٹھنڈا ہوگا نہیں
اپنا پَلوُ نہ چھوڑنے دینا
ماں ترے بن گزارا ہو گا نہیں
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے