تُم قیدی ہو

تم قیدی ہو
تم اپنے خواب کے قیدی ہو
تم خواب میں آئینے کے خواب میں چلتے ہو
اور آئنہ
ترے عکسوں کی سوغات لیے
کئی رنگ بدلتا جاتا ہے
کوئی قوسِ قزح
کوئی رقصِ ہوا
کوئی دل کی گرہ کھلتی ہی نہیں
تری سبز کرامت آنکھوں میں
یہ جو دُور تلک اِک سرد سی خاموشی کا جادو تیرتا ہے
تم اُس جادو کی قید میں ہو
مجھے جادو توڑنا آتا ہے
آئینہ جوڑنا آتا ہے
مجھے اپنی ذات کی چوکھٹ تک تو آنے دو
جادو سے بوجھل پلکوں کا کچھ بوجھ تو ہلکا کرنے دو
یہ جو آپ ہی آپ چھلک پڑتی ہیں
اِ ن آنکھوں میں
اسمِ محبت کی تاثیر تو بھرنے دو
مجھے اپنی ذات کے خواب میں زینہ وار اُترنے دو
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے