تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں

تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں
اب تو آجاؤ کہ اب عُمر کے دن تھوڑے ہیں

آج مر جاؤں تو نکلیں نہ کفن کے پیسے
یوں تو کہنے کو مرے پاس کئی جوڑے ہیں

اے زر و سیم کے انبار لگانے والے
دیکھ، یہ ماضی ء مرحوم کے کچھ توڑے ہیں

کون سا جُرم کروں، فاقہ کشی یا چوری
اِس کی تعزیر اجل، اُس کی سزا کوڑے ہیں

دستِ مزدور جھٹکنے سے نہیں جُھک سکتا
اجر مانگا ہے ، کوئی ہاتھ نہیں جوڑے ہیں

آنے والوں سے مٹائے نہ مٹیں گے صدیوں
جانے والوں نے عجب نقش و نشاں چھوڑے ہیں

ہیں تو گمراہ شعورؔ آپ مگر وہ گمراہ
جس نے کچھ قافلہ ء دہر کے رُخ موڑے ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے