تم جاننا چاھو کہ میرے اندر ہے کون

تم جاننا چاھو کہ میرے اندر ہے کون
اس بات کے آغاز پہ تم غور ذرا کر لو
میرے ساتھ جو چلنا ھو تو دور تلک چلنا
ورنہ پلٹو اور محبت کا استخارہ کر لو
کیسے ٹوٹتے ھیں لوگ چلو دکھلاوں میں
سڑکوں پہ پڑے لوگوں کا نظارہ کر لو
اب تم بھی منافقت سے باز آجاو
میرا مشورہ یہی ھے گزارہ کر لو
دوسری محبت میں مات ہو بھی سکتی ہے
یوں کرو میرے ہی ساتھ پہ گزارا کر لو
حسرتوں کی دلدل میں دھنس نہیں سکتی
آرزو تم کو ہے تمہیں فیصلہ دوبارہ کر لو
منزلیں اور بھی ہے تحمینہ کی بتائیے دیتی ہوں
پھر نہ کہنا کہ تم مجھ سے کنارہ کر لو
تہمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

  • زین چیمہ

    بہت خوب کہا ہے
    اب تم بھی منافقت سے باز آجاو
    میرا مشورہ یہی ھے گزارہ کر لو

    جواب دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے