تم بھی آؤ نا درختوں کی گھنی چھاؤں میں

تم بھی آؤ نا درختوں کی گھنی چھاؤں میں
ریل تو روز ہی رکتی ہے مرے گاؤں میں

جب بھی کرتی ہوں ترے ساتھ میں دل کی باتیں
پھول کھلتے ہیں مری روح کے صحراؤں میں

تجھ کو آتے ہیں نہ آنے کے بہانے ورنہ
کوئی زنجیر نہیں یار ترے پاؤں میں

دل کی باتوں کو زباں دیتی ہیں آنکھیں اکثر
اور پھر ہوتی ہے ہر بات شناساؤں میں

آنکھ سوئے گی تری دید کی خواہش لے کر
خواب جاگیں گے ترے وصل کی دنیاؤں میں

دل کی دنیا میں چلے آتے ہیں خوشبو بن کر
پیار کو قید نہیں کرتے جو ریکھاؤں میں

آج پھر ٹوٹ کے برسی ہیں گھٹائیں ہر سو
آج پھر شور سا برپا ہے تمناؤں میں

دور تک راج ہوا کرتا ہے خاموشی کا
جب بھی طوفان اٹھا کرتے ہیں دریاؤں میں

منزہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے