تجھے یہ وہم کہ چہرے کو کب سمجھتا ہوں

تجھے یہ وہم کہ چہرے کو کب سمجھتا ہوں
تُو جتنا مرضی چھپا بات سب سمجھتا ہوں

ترے بقول ! محبت میں کوئی حرص نہیں
مگر یہ کارِ ہوس کی طلب ؟ سمجھتا ہوں

یہ لہر جس نے مرے پاؤں چھو کے عشق کیا
بھنور کی آل ہے نام و نسب سمجھتا ہوں

سب اولیا بھی یہاں سر جھکا کے چلتے ہیں
میں سر زمینِ نجف کا ادب سمجھتا ہوں

بچھڑ بچھڑ کے یہ میں نے فریب سیکھ لیا
کہ میں بھی چھوڑ کے جانے کا ڈھب سمجھتا ہوں

کسی نے لب سے گرا کر کچل دیا مجھ کو
کسی کے واسطے "سگریٹ ” تھا اب سمجھتا ہوں

احمد آشنا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے