تجھے کھو کر کسی سے پیار ہونا چاہیے تھا

تجھے کھو کر کسی سے پیار ہونا چاہیے تھا
ہمیں اتنا تو دنیا دار ہونا چاہیے تھا
ابھی تک کھل نہیں پایا کہ تیری داستاں میں
ہمارا کون سا کردار ہونا چاہیے تھا
کسی کے فیصلے کو مسترد کرنے سے پہلے
ہمیں بھی غیر جانب دار ہونا چاہیے تھا
کہاں تک اس کنارے پر رہیں گے ہم کہ اب تو
یہ دریا بھی کہیں سے پار ہونا چاہیے تھا
بدلنی چاہیے تھی خاک کی تاثیر شہزادؔ
ہمارے خون کو تلوار ہونا چاہیے تھا
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے