فروری 5, 2023
Asma Faraz
عاصمہ فراز کی اردو غزل

تجھ سے یوں دوستی نبھاٶں گی
اب کبھی لوٹ کر نہ آٶں گی

تو نے چاہی ہے میری بربادی
اب میں آباد ہو نہ پاٶں گی

دیکھ سب کچھ ہی سہہ لیا میں نے
تو نے سوچا تھا ٹوٹ جاؤں گی

دل میں اشکوں کا ایک دریا ہے
ان میں یادیں تری بہاٶں گی

یاد کر کے مجھے تو روۓ گا
میں تجھے اس طرح بھلاٶں گی

اب ترے نام پر نہ دھڑکے گا
دل کو میں بے حسی سکھاٶں گی

جاہ و حشمت کی آرزو کب ہے
میں فقط آبرو بچاؤں گی

راستے میں رہی سدا حاٸل
اب یہ دیوار ، در بناٶں گی

شب کے تاروں سے روشنی لے کر
اک چراغِ سحر جلاٶں گی

عاصمہ فراز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے