تجھ سے بچھڑوں گا ترے دھیان میں رہ جاؤں گا

تجھ سے بچھڑوں گا ترے دھیان میں رہ جاؤں گا
میں رہا ہو کے بھی زندان میں رہ جاؤں گا
وہ گزر جائے گا سو راستے کر کے لیکن
میں کہیں وعدہ و پیمان میں رہ جاؤں گا
بانجھ پیڑوں کو نہ کاٹے گا کوئی دست اجل
میں کہ پھل دار ہوں نقصان میں رہ جاؤں گا
ایک لمحہ وہ پذیرائی کرے گا اور میں
عمر بھر سایۂ احسان میں رہ جاؤں گا
آگ کے پھول تو بجھ جائیں گے لیکن شہزادؔ
میں سلگتا ہوا گلدان میں رہ جاؤں گا
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے