تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں
میں تیرے بارے فرشتوں کی طرح سوچتا ہوں
جی میں آتا ہے لپٹ جاوں در و بام کے ساتھ
گھر پہنچتا ہوں تو بچوں کی طرح سوچتا ہوں
میرے سینے میں امانت ہے کسی روشنی کی
شام کے وقت چراغوں کی طرح سوچتا ہے
تیری مرضی ہے مجھے جیسا سمجھ لے لیکن
میں تیرے بارے درختوں کی طرح سوچتا ہوں
اک یہی بات تو اچھی ہے میرے سوچنے میں
آپ ویسا نہیں جیسوں کی طرح سوچتا ہوں
ٹھوکریں کھائی، گرا، سر لگا دیواروں میں
میں اسے آج بھی اندھوں کیطرح سوچتا ہوں
دانش نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے