فروری 5, 2023
Asma Faraz
عاصمہ فراز کی اردو غزل

تجھ کو فرصت سے سوچتا ہے کوٸی
اس طرح تجھ کو چاہتا ہے کوٸی

تو نہیں ہے مگر ہر اک رہ میں
آج بھی تجھ کو دیکھتا ہے کوٸی

غم کے عالم میں رات بھر تنہا
تیری خاطر ہی جاگتا ہے کوٸی

جس کو دیکھے زمانہ بیت گیا
پھر اسی کو ہی کھوجتا ہے کوٸی

جی تو لیتے ہیں ہم جدا ہو کر
دل سے لیکن نہ بھولتا ہے کوٸی

سانس لیتا ہے پر نہیں زندہ
زندگی یوں گزارتا ہے کوٸی

جانے والے سے جا کے کہہ دو یہ
تجھ کو دل سے پکارتا ہے کوٸی

عاصمہ فراز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے