تجھ بن ذات ادھوری ہے

تجھ بن ذات ادھوری ہے

تمھاری آس کے گملوں میں رکھے پھول مرجھانے لگے ہیں
جدائی دھوپ لگتی ہے بہت ہی تلخ چبھتی سی
دسمبر جون لگتا ہے
کسی کے نام کی گھنٹی بجے مجھ کو تمھارا فون لگتا ہے
تمھارے لوٹ آنے تک نہ جانے کس قدر لمبی اداسی
آنکھ کے بستر میں چھپ کے رات لکھے گی
نہ جانے کس قدر سپنوں کو دے گی بے گھری کا دکھ
ابھی تو پھر بھی باقی ہے کوئی سپنا
تمھارے لمس کے زندہ ورق پر
تمہاری خوشبوئیں زندہ ہیں پھولوں کے بدن میں
مگر ایسا نہ ہو کہ خوشبوئیں بے چہرگی پہنیں
کہیں ایسا نہ ہو کہ پھول جل جائیں کسی سپنے کے بجھتے ہی
تمہارا لمس مر جائے
گلابوں کے بدن میں زنگ لگ جائے
کہیں ایسا نہ ہو جاناں
انا کی سرخ ٹہنی پر کوئی تلوار اگ آئے
تمھارے اور میرے درمیاں دیوار اگ آئے
کہیں ایسا نہ ہو کہ سوچ کی کھڑکی میں کوئی وہم آ بیٹھے
میں اس تکمیل کے آدھے سفر میں ہی مر جاؤں
یہ موسم جو ادھورا ہے ادھورا ہی نہ رہ جائے
ابھی تو آنکھ کی مشعل مجھے رستہ دکھاتی ہے
ابھی تو آئینہ چھرہ دکھاتا ہے
سراب ہی سہی جاناں
ابھی تو آس لکھتا ہے
ابھی تو وقت مٹھی میں
اگرچہ ریت کی مانند پھسلتا جا رہا ہے
تمھارے لوٹ آنے تک سنبھالوں گا کوئی لمحہ
یہ سارا وقت گرنے سے
مرے بہنے سے
ذرا ایک لمحہ پہلے تک ۔۔۔۔۔۔اگر تم لوٹ آؤ تو
اگر تم لوٹ آؤ تو مری تکمیل ہو جائے

سید کامی شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے