تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے

تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے
دل ترے قرب میں رہتے ہوئے پیاسا کیوں ہے
جب مری پیاس کا حق ہی نہیں تجھ پر کوئی
تیری برسات کے لہجے میں دلاسا کیوں ہے
میں اُسے روکنا چاہوں تو نفس رُک جائے
سوچتا ہوں کہ مزاج اُس کا ہوا سا کیوں ہے
وہ محبت میں شریک اپنا نہیں ٹھہراتا
وہ خدا تو نہیں ہے پھر بھی خدا سا کیوں ہے
شاذ بینائی مری چھین کے جو لے گیا تھا
پوچھتا ہے کہ مرے ہاتھ میں کاسہ کیوں ہے
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے