تُو نے دیکھا کبھی دریا کے رواں پانی کو

تُو نے دیکھا کبھی دریا کے رواں پانی کو
ایک عجلت سی ہے درپیش میاں پانی کو
خاک پیاسی ہوئی اتنی کہ قیامت آئی
اور زمیں ہونے لگی نوحہ کناں پانی کو
تندئِ آب کے آگے نہیں چلتی کسی کی
کیوں عبث کوس رہا ہے مری جاں پانی کو
کوئی رہ گیر کہیں پیاس میں تڑپا ہَو گا
لینے آئی ہے اگر بادِ رواں پانی کو
خوب حیران ہوئے تشنگی اور آبِ فرات
کون اچھالے ہے سرِ نوکِ سناں پانی کو
پیاس ہونٹوں پہ مچلتی رہی پھر اُس کے بعد
گیا یوسفؑ تَو بہت رویا کنواں پانی کو
نہ کوئی نوحؑ یہاں اور نہ کوئی ناؤ سمیرؔ
کیوں بلایا کرے ہیں اہلِ جہاں پانی کو
سمیرؔ شمس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے