تُو نے پھینکا عدیم جال کہاں

تُو نے پھینکا عدیم جال کہاں
جال میں آئے گا غزال کہاں
جہاں جلتے ہیں پَر محبت کے
کر دیا وصل کا سوال کہاں
زاویئے ہی بدل گئے سارے
اب وہ معصوم سے وصال کہاں
تُو کسی اور کی طرف دیکھے
جان من یہ تری مجال کہاں
آ ہی جاؤ گے تم تو سال کے بعد
آئے گا یہ پلٹ کے سال کہاں
کاش ہم دن حنوط کر سکتے
مل سکا یہ ہمیں کمال کہاں
نہ ترا راستہ نہ تیرے قدم
دل ہوا بھی تو پائمال کہاں
کوئی اگلے جہاں میں ہو تو ہو
اِس جہاں میں تری مثال کہاں
ایک چہرہ گیا تو اک آیا
حسن کو مل سکا زوال کہاں
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے